پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، ملک بھر میں تنظیمیں تحلیل
پاکستان پیپلز پارٹی
پارلیمینٹیرین کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پورے پاکستان میں ضلعی سطح
تک بشمول جنوبی پنجاب، پارٹی کی تمام تنظیمیں تحلیل کر دی ہیں۔
بلاول نے ہر صوبے بشمول جنوبی پنجاب کے، پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تنظیم نو کے لیے تین ماہ میں سفارشات پیش کرے گی۔پاکستان پیلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے عوام کے لیے خط لکھا ہے جس سے عوام سے رائے مانگی ہے کہ جماعت ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کیسے کرے۔
’بلاول بھٹو نے مشاورتی عمل کا آغاز کیا ہے جس میں جماعت کے مقاصد اور ملک کی ترقی میں پارٹی کے کردار کو بیان کیا گیا ہے۔‘
کائرہ نے مزید کہا کہ اس خط میں عوام سے تجاویز مانگی گئی ہیں کہ پارٹی کی اقتصادی ترجیحات کیا ہونی چاہییں اور کیسے پارٹی کی تنظیم نو کی جائے۔
’پارٹی کارکنان سے پوچھا گیا ہے کہ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ کیسا ہو۔‘
اس سے قبل پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ بلاول بھٹو نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اجلاس میں کیا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم نو کا معاملہ کافی عرصے سے زیر التوا تھا اور چار اپریل کو لاڑکانہ میں بلاول بھٹو نے پارٹی کی تنظیم نو کا اعلان کیا تھا۔
بلاول بھٹو نے ایک اور کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو حال ہی میں پاناما پیپرز کے حوالے سے تحقیقات کرے گی۔ یہ چار رکنی کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدین حزب اختلاف اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈروں پر مشتمل ہوگی۔
اس کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کر کے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے۔ اس پارلیمانی کمیٹی کو مکمل اختیار ہو گا کہ وہ پاناما لیکس کے حوالے سے تفتیش کر سکے اور بین الاقوامی فورینسک ماہرین کی مدد سے تحقیق کا مطالبہ کر سکے۔
اس کمیٹی کے رابطوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور ان کا موقف جاننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایک اور چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بلاول کو پاناما پیپرز کے حوالے سے قانونی مشورے دے گی۔ یہ کمیٹی بیرسٹر اعتزاز احسن، سینیٹر فاروق نائیک، سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اور سابق چیئرمین سینیٹ نیئر بخاری پر مشتمل ہے۔
یہ کمیٹی پاناما لیکس میں شفاف اورقابلِ اعتماد تحقیق کے حوالے سے پارٹی چیئرمین کی مدد کرے گی۔